Pak Urdu Hub

Pak Urdu Hub

Find latest collection of Sad Poetry, Shayari & Urdu Ghazals, Sad Urdu shayari is very famous in Pakistan and around the world.Poetry in Urdu اردو شاعری Urdu Shayari of Urdu poets from Pakistan and India. Read Ghazals and Nazams online, with large collection of love poetry,Sabaq Amoz Waqiat,Quran Pak, Islam Quran, Islamic Teachings, Islamic Dua, Urdu Quotes, Hadith..

Breaking

Monday, 30 September 2019

na dosti na mohabbat

September 30, 2019 0
na dosti na mohabbat

کیوں ڈھونڈتا پھرتا ہے پینے کو تو شراب؟ حرام شے ہے یہ ! اسکی کوئی جگہ نہیں.. .

September 30, 2019 0
کیوں ڈھونڈتا پھرتا ہے پینے کو تو شراب؟ حرام شے ہے یہ ! اسکی کوئی جگہ نہیں.. .

عمران خان سے ملاقات کرنے والے ارب پتی یہودی کون ہیں؟??

September 30, 2019 0
 عمران خان سے ملاقات کرنے والے ارب پتی یہودی کون ہیں؟??

 عمران خان سے ملاقات کرنے والے ارب پتی یہودی کون ہیں؟




پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے نیویارک میں قیام کے دوران انھوں نے کئی اہم بین الاقوامی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ ان میں سے ایک نام ایسے ارب پتی یہودی کا ہے جو دنیا بھر میں فلاحی کاموں کے لیے 32 ارب ڈالر عطیہ کرنے کے باوجود اپنے ملک سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں ایک ناپسندیدہ شخص تصور کیے جاتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جارج سوروس نے عمران خان سے پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں تعاون فراہم کرنے کے علاوہ افغانستان میں اپنے تعلیمی منصوبوں پر بات کی۔

سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کے وفد نے ٹیکس اصلاحات میں بھی پاکستان کی مدد کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اس ملاقات کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی کہ اوپن فاؤنڈیشنز کا ایک وفد بہت جلد پاکستان کا دورہ کرے گا۔

جارج سوروس کون ہیں؟
جارج سوروس دوسری جنگ عظیم سے قبل مشرقی یورپ کے ملک ہنگری میں پیدا ہوئے۔ وہ ان یہودیوں میں سے ہیں جو ہولوکاسٹ اور کیمونسٹ حکومت سے جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

وہ 40 سال سے دنیا کے 120 ملکوں میں فلاحی کام کرنے والی تنظیم اوپن سوسائٹی فاونڈیشنز کے سربراہ ہیں۔

امریکہ سے آسٹریلیا تک اور ہنگری سے ہونڈورس تک جارج سوروس ایک متنازع شخصیت ہیں اور ان پر الزام ہے کہ وہ کسی بڑی عالمی سازش کا حصہ ہیں۔

امریکہ اور مغرب میں دائیں بازو کی قوتیں جارج سوروس کی مخالفت میں پیش پیش رہتے ہیں۔

ٹرمپ کے حامیوں کا جارج سوروس سے کیا رشتہ ہے؟
گذشتہ اکتوبر پیر کو سہ پہر کے وقت نیویارک کے سر سبز علاقے میں جارج سوروس کے وسیع و عریض محل نما گھر کے لیٹر باکس میں ایک پارسل موصول ہوتا ہے۔

یہ پارسل کچھ مشکوک دکھائی دیتا ہے۔ اس پر پارسل ارسال کرنے والے کا پتہ غلط ہجے کے ساتھ تحریر کیا گیا تھا۔ پولیس کو اطلاع دی گئی اور جلد ہی وہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اہلکار بھی پہنچ گئے۔

اس پارسل کے اندر جارج سوروس کی ایک تصویر تھی جس پر سرخ روشنائی سے کانٹا لگا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ چھ انچ پائپ کا ٹکڑا تھا، جس میں کالے رنگ کا سفوف، چند تاریں اور ایک گھڑی بھی تھی۔

اس طرح کے ایک درجن سے زیادہ پارسل سابق صدر براک اوباما اور سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سمیت ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی اور سرکردہ رہنماؤں کو بھی موصول ہوئے۔

ان پارسلوں میں سے کوئی بھی نہیں پھٹا۔ ایف بی آئی کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ فلوریڈا میں کھڑی ایک ویگن سے بھیجے گئے تھے جس پر ٹرمپ کے حق میں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے خلاف نعرے لکھے ہوئے تھے۔

فوری طور پر دائیں بازو کے ذرائع ابلاغ کے اداروں نے اسے ایک 'فالس فلیگ' کارروائی کہا۔ ان کا موقف تھا کہ اسے ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کی صدارتی انتخابات کی مہم کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے ایک اینکر لو ڈابز نے ٹوئٹ کیا ’جھوٹی خبر، جھوٹے بم۔ اس سارے جھوٹ سے کس کو فائدہ ہو سکتا ہے۔‘

قدامت پسند خیالات کے حامی ریڈیو پر ایک میزبان رش لمباگ نے کہا کہ ریپبلکن ایسی حرکتیں نہیں کرتے۔

جلد ہی انٹرنیٹ پر ان خبروں کی بھر مار ہو گئی جن میں یہ الزامات عائد کیے گئے کہ جعلی بموں کے اس ڈرامے کے پیچھے کوئی اور نہیں خود جارج سوروس ہیں۔

صدر ٹرمپ نے بھی اسے ایک کراہیت آمیز حرکت کہہ کر اس کی مذمت کی۔

اس کے بعد فلوریڈا سے ایک 56 سالہ شخص سیزر سیوک کو گرفتار کیا گیا۔

سازشی ذہنیت کے حامل لوگوں نے اس شخص کے بارے میں دعوی کیا کہ وہ اصل میں ریپبلکن نہیں تھا۔

لیکن اس کے ساتھ ماضی میں کام کرنے والی خاتون لیوگ مارا نے کہا کہ سیزر سیوک جس وین میں پیزا ڈلیوری کا کام کرتے تھے اس پر ٹرمپ کے حق میں پوسٹر اور سٹیکر لگے ہوئے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ پیزا لینے والوں میں جس کسی کے گھر پر ڈیموکریٹک پارٹی کا جھنڈا لگا ہوتا تھا تو سیزر سیوک اس سے بحث کرتے اور اسے ریپبلکن پارٹی کے حق میں ووٹ ڈالنے پر مجبور کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیزر سیوک کے نزدیک ہر بات ہی سازش تھی، یعنی ہر چیز کے پیچھے جارج سوروس ہیں اور انھوں نے پوری ڈیموکریٹک پارٹی کو خرید رکھا ہے جبکہ امریکہ میں جو کچھ بھی غلط ہو رہا تھا اس کے ذمہ دار جارج سوروس ہی ہیں۔

سیوک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے علم ہوا ہے کہ جس دن جارج سوروس کے گھر سے پارسل بم برآمد ہوا اس دن سیوک نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک میم لگائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ دنیا کو جارج سوروس کی تباہ کاریوں کا ادراک ہو رہا ہے۔

سیوک نے بعد میں 65 الزامات کا اعتراف کیا جس میں ارادۂ قتل بھی شامل تھا اور بعد میں انھیں 20 برس قید سزا سنائی گئی۔

’بینک آف انگلینڈ کو کنگال کرنے والا شخص‘
برطانیہ میں جارج سوروس کی شہرت ایک ایسے شخص کے طور پر ہے جس نے بینک آف انگلینڈ کو سنہ 1992 میں کنگال کر دیا تھا۔

کرنسی کے دوسرے سٹے بازوں کے ساتھ ملکر سوروس نے پونڈ لے کر انھیں مارکیٹ میں فروخت کر دیا جس سے پونڈ کی قدر میں شدید کمی واقع ہوئی اور برطانیہ کو پورپی ایکسچینج نظام سے نکلنا پڑا۔ اس سارے معاملے میں سوروس نے ایک ارب ڈالر کمائے۔

اس شخص نے کرنسی کی سٹے بازی میں ایک اندازے کے مطابق مجموعی طور پر 44 ارب ڈالر کمائے۔

صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اگست 2017 میں نیو نازیوں نے ورجینیا کے علاقے میں ایک مشعل بردار جلوس نکالا۔ اس جلوس کے دوران مخالفین کے ایک گروہ سے ان کا تصادم ہو گیا جس پر سفید فام شدت پسند نے ہجوم پر گاڑی چڑھا دی جس میں ایک 32 سالہ خاتون ہلاک ہو گئیں۔

دائیں بازو کے مبصروں نے یہ دعویٰ کرنا شروع کر دیا کہ یہ بھی جارج سوروس کی سازش تھی تاکہ صدر ٹرمپ کی حکومت کو بدنام کیا جاسکے۔

انھوں نے کہا کہ اس ساری سازش کا اہم کردار برینن گلمور تھے جنھوں نے ہجوم پر گاڑی چڑھانے کی ساری ویڈیو بنائی۔

دائیں بازو کے ایک ریڈیو نے دعویٰ کیا کہ سوروس نے گلمور کو تین لاکھ 20 ہزار ڈالر دیے۔

کیا صدر ٹرمپ جارج سوروس کے مخالف ہیں؟
یہ درست ہے کہ جارج سوروس نے پانچ لاکھ ڈالر ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ٹوم پریلو کو دیے تھے جن کے لیے گلمور بھی کام کر رہے تھے۔

لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ سوروس یا ان کی اوپن سوسائٹی فاونڈیش نے گلمور کو کوئی رقم دی تھی۔ گلمور نے اب اس ریڈیو کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔

گذشتہ موسمِ خزاں میں ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن نے جنوبی امریکہ کے ملک ہونڈورس سے امریکہ کی طرف پیدل ہجرت شروع کر دی۔ یہ ہجرت امریکہ میں نصف مدتی انتخابات سے ایک ماہ پہلے شروع ہوئی۔

اس ہجرت کو بھی سوروس کی ایک سازش قرار دیا جانے لگا۔ فاکس نیوز نے یہ دعویٰ کیا کہ سوروس آزاد سرحدوں اور بلا روک ٹوٹ نقل مکانی کے حامی ہیں۔

ریپبلکن پارٹی کے ایک سابق رکن جیک کنگسٹن نے کہا کہ یہ ایک منظم ہجرت ہے اور اس کے پیچھے پیسہ کارفرما ہے اور سوروس ہی اس طرح کی سازش کے پیچھے ہوسکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں دیکھا گیا کہ ہنڈورس میں لوگوں کو پیسے بانٹے جا رہے ہیں جس میں یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ پیسہ جارج سوروس نے فراہم کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ سے جب وائٹ ہاؤس کے سامنے سوال کیا گیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ پیسہ واقعی جارج سوروس نے دیا تھا تو انھوں نے کہا کہ یہ میرے لیے کوئی حیران کن بات نہیں ہو گی، بہت سے لوگ یہی کہتے ہیں۔

بعد میں یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ یہ ویڈیو جعلی تھی اور یہ ہونڈورس کی نہیں تھی۔

سفید فام شدت پسندوں کے یہودیوں پر حملے
27 اکتوبر سنہ 2018 میں تارکینِ وطن کو پیسہ دینے کی سازشی کہانی سامنے آنے کے 11 دن بعد اور پائپ بم کے پیکیچ ارسال کیے جانے کے واقعے کے پانچ دن بعد ایک سفید فام بندوق بردار شخص نے پٹسبرگ میں یہودیوں کی ایک عبادت گاہ میں گھس کر 11 افراد کو ہلاک کر دیا۔

یہ امریکہ کی تاریخ میں یہودی کے خلاف تشدد کا بدترین واقعہ تھا اور یہ ایک ایسے شخص نے کیا تھا جو سوروس کی نفرت میں مبتلا تھا۔

سوشل میڈیا پر جاری پیغامات سے معلوم ہوا کہ یہودی عبادت گاہ پر حملہ کرنے والے رابرٹ بوئرز اس سازشی مفروضے پر یقین رکھتے تھے کہ سفید فاموں کو ختم کرنے کے لیے سازش کی جارہی ہے جس کے ماسٹر مائنڈ جارج سوروس ہیں۔

اس تھیوری کے مطابق سفید فام لوگوں کی اکثریت ختم کرنے کے لیے تارکینِ وطن کو لایا جا رہا ہے۔ اس لیے نیو نازی اس طرح یہ نعرے لگاتے ہیں کہ یہودی ہماری جگہ نہیں لے سکتے۔

نیٹ ورک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جیول فنکل سٹین نے سوشل میڈیا پر ایک ایسا پیغام ڈھونڈ نکالا جس میں بوئرز جارج سوروس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ یہودی سفید فاموں کے قتل عام کے لیے پیسہ فراہم کر رہے ہیں اور یہ ذرائع ابلاغ کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔

اس پوسٹ میں مزید یہ کہا گیا تھا کہ جارج سوروس امریکہ میں ہتھیاروں کی روک تھام اور آزاد سرحدوں کے لیے بھی زور لگا رہے ہیں۔

فنکل سٹین نے، جنھیں اوپن سوسائٹی فاونڈیشن کی طرف سے مالی معاونت فراہم کی گئی، اس تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بوئرز جیسے سفید فام شدت پسند تمام سازشوں کے پیچھے سوروس کا ہاتھ دیکھتے ہیں۔

ان کے بقول وہ اپنی تمام پُرتشدد کارروائیوں کو جائز قرار دینے کے لیے سوروس کو ایک بدی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

جارج سوروس دیگر ممالک میں کیوں بدنام؟
جارج سوروس کی لعنت ملامت صرف امریکہ تک محدود نہیں بلکہ اس کا سلسلہ آرمینیا، آسٹریلیا، ہونڈورس، فلپائن اور روس تک پھیلا ہوا ہے۔

ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان نے سوروس کو ایک یہودی سازش کا مرکزی کردار قرار دیا جو ترکی اور کئی دوسرے ملکوں کو تقسیم اور غیر مستحکم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

اٹلی کے نائب وزیر اعظم میتو سیلوینی نے سوروس پر الزام لگایا کہ وہ اٹلی کو تارکین وطن سے بھرنا چاہتے ہیں کیونکہ انھیں غلام بہت پسند ہیں۔

برطانیہ میں بریگزٹ پارٹی کے لیڈر نائجل فراج نے دعویٰ کیا کہ سوروس چاہتے ہیں کہ یورپ میں تارکینِ وطن کا سیلاب آ جائے جو پوری مغربی دنیا کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔

لیکن ایک ملک جہاں سوروس پیدا ہوئے وہاں ان کی مخالفت سب سے زیادہ ہے۔

جنوبی مشرقی ایشیا سے لے کر جنوبی امریکہ تک کئی ممالک جارج سوروس پر کرنسی کی سٹے بازی سے ان ملکوں کی معیشت تباہ کرنے کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔

جارج سوروس کی اوپن سوسائٹی فاونڈیشن ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ لاکھوں ڈالر جمہوریت، تعلیم اور انسانی حقوق کے اعلیٰ مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

Partner Content: BBC


Sunday, 29 September 2019

دنیا کی مقبول ترین کمپنیوں سے ہونے والی 5 دلچسپ غلطیاں٬

September 29, 2019 0
دنیا کی مقبول ترین کمپنیوں سے ہونے والی 5 دلچسپ غلطیاں٬






دنیا میں اس وقت لاتعداد مشہور اور کامیاب
کمپنیاں موجود ہیں- لیکن یہ بھی حقیقت ان کامیاب کمپنیوں میں بھی اکثر ملازمین یا پھر ان کے مالکوں سے غلطیاں ہوجاتی ہیں- لیکن یہ کمپنیاں اپنی ان غلطیوں سے ہی سیکھتی بھی ہیں- آج ہم آپ کو دنیا کی چند مقبول کمپنیوں سے ہونے والی بڑی بڑی غلطیوں کے بارے میں بتائیں گے-

1.بریک فری 
سال 2010 میں سوئیڈن سے تعلق رکھنے والی کمپنی والوو نے پریزینٹیشن میں اپنی ایک ایسی کار پیش کی جس میں ایسا خودکار سسٹم موجود تھا کہ کار کسی چیز سے ٹکرانے سے پہلے ہی خود بخود بریک لگا دیتی تھی- اس موقع پر جب کار کے اس خودکار سسٹم کا مظاہرہ کرنے کے لیے کار کو چلایا گیا تو کار رکی ہی نہیں اور ٹرک میں جا ٹکرائی- دوسری بار سال 2015 میں اسی کمپنی نے اپنی ایک اور گاڑی پیش کی جس میں خودکار پارکنگ سسٹم نصب تھا- اس سسٹم کے تحت گاڑی خود بخود پارک ہوجانی تھی لیکن جب اس کا مظاہرہ کیا گیا تو کمپنی کو ایک بار پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ کار پارک ہونے کے بجائے سیدھا رپورٹر پر چڑھ دوڑی


2-مائیکرو سوفٹ ٹیبلٹ

سال 2012 مائیکرو سوفٹ کمپنی ایک تقریب کے دوران اپنا سرفیس ٹیبلٹ متعارف کروا رہی تھی- آغاز میں کمپنی کے مینیجر نے مہمانوں کو ٹیبلٹ کے فیچر کے متعلق آگاہ کیا لیکن جب مینیجر نے اس ٹیبلٹ کو آپریٹ کرنے کی کوشش کی تو وہ ہینگ ہوگیا- مینیجر کی بےانتہا کوششوں کے باوجود ٹیبلٹ نے کام نہیں کیا اور بالآخر انہیں دوسرے ٹیبلٹ کے ذریعے اپنی پریزینٹیشن مکمل کرنی پڑی-


3-فیس آئی ڈی

آئی فون ایکس کو کون نہیں جانتا ہے- ایپل کمپنی نے اپنے اس موبائل میں ایک نیا فیچر متعارف کروایا تھا جو کہ face id recognition تھا- جب ایپل کمپنی کے وائس پریزیڈنٹ اپنے نئے موبائل کے اس انوکھے فیچر کا مظاہرہ لوگوں کے سامنے کر رہے تھے تو اس وقت موبائل کے فیس آئی ڈی سسٹم نے کام ہی نہیں کیا اور آئی فون نے ان لاک کے لیے پاسورڈ طلب کر لیا- دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت وائس پریذڈنٹ یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ آئی فون ایکس پہلی بار میں ہی چہرہ شناخت کر لیتا ہے اور فون کھول دیتا ہے لیکن اس وقت آئی فون نے خود انہی کا چہرہ پہچاننے سے انکار کردیا- جس کے بعد انہوں نے دوسرے فون سے اس فیچر کا مظاہرہ کر کے دکھایا-

4-بلیو اسکرین

یہ تو سب ہی جانتے ہیں کمپیوٹر کے دنیا میں تہلکہ بل گیٹس نے اپنی ونڈوز کے ذریعے مچایا- لیکن آپ یہ شاید نہیں معلوم کہ جب بل گیٹس نے 1998 میں پہلی بار اپنی ونڈوز کی پریزینٹیشن دی تو اس وقت ونڈوز نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور پوری اسکرین بلیو ہوگئی تھی- اس پریزینٹیشن میں بل گیٹس کا بہت مذاق بنا تھا-


5-آئی فون

ایپل کمپنی کو پریزینٹشن میں کئی بار شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے- ایسا ہی ایک موقع آئی فون 4 متعارف کرواتے وقت بھی آیا- اس وقت ایپل کمپنی کے مالک اسٹیو جابز پبلک کے سامنے آئی فون 4 متعارف کروا رہے تھے- اس دوران انہوں نے آئی فون 4 میں نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ کھولنے کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی- متعدد کوششوں کے باوجود آئی فون 4 میں انٹرنیٹ نہیں چلا اور سائٹ اوپن نہیں ہوئی- درحقیقت اسٹیو جابز اس وقت سفاری براؤزر متعارف کروا رہے تھے- بعد میں انکشاف ہوا کہ خرابی موبائل میں نہیں تھی بلکہ جس عمارت 
میں یہ تقریب منعقد کی گئی تھی وہاں انٹرنیٹ کام ہی نہیں کر رہا

وہ 6 چیزیں جن سے ہم مستقبل میں محروم ہو جائیں گے....

September 29, 2019 0
وہ 6 چیزیں جن سے ہم مستقبل میں محروم ہو جائیں گے....
وسائل میں کمی کا تکلیف دہ احساس ہمیں رفتہ رفتہ ہونے لگا ہے۔

تقریباً ہم سبھی نے یہ پڑھا ہو گا کہ پانی کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے یا تیل اور شہد کی مکھیاں کم ہو رہی ہیں لیکن ایسی اور بھی کئی چیزیں ہیں جن سے ہم محض بد انتظامی کی وجہ سے محروم ہو سکتے ہیں۔
 

یہ وہ چیزیں ہیں جو روزمرہ زندگی میں ہم پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ہم نے یہاں ایسی چھ چیزوں کا ذکر کیا ہے۔

1. زمین کے مدار میں گنجائش
سنہ 2019 میں تقریباً 500,000 اجسام یا ٹکڑے زمین کے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔

ان میں سے صرف دو ہزار فعال ہیں یعنی وہ مصنوعی سیارے یا سیٹلائٹ جنھیں ہم روزمرہ کی زندگی میں مواصلات، جی پی ایس یا اپنے من پسند ٹی وی شو دیکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

جبکہ باقی وہ ملبہ ہے جو راکٹ خلا میں داخل ہوتے وقت پیچھے چھوڑ جاتے ہیں یا جو مدار میں مخلتف چیزوں کے ٹکرانے سے پیدا ہوا ہے۔
 

تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ یہ پانچ لاکھ اجسام وہ ہیں جو ہمارے مشاہدے میں ہیں جبکہ اس میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔

جیسے جیسے ٹیکنالوجی مزید بہتر ہو رہی ہے ویسے ویسے چیزوں کو مدار میں بھیجنا آسان ہوتا جا رہا ہے۔

اسے انسانوں کے لیے اچھی خبر سمجھا جا سکتا ہے لیکن ہماری سڑکوں کے برعکس آسمان کی ٹریفک کو قابو میں رکھنے کے لیے کوئی نظام موجود نہیں۔ ہمارے پاس ایسا بھی کوئی نظام نہیں کہ زمین کے گرد چکر لگاتے ملبے یا باقیات کا صفایا کر سکیں۔

زمین کے مدار میں ان اجسام کے اضافے سے ان کے باہمی تصادم کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ نیٹ ورک خراب ہو سکتے ہیں جن کی مدد سے ہم اپنے موبائل فون استعمال کرتے ہیں، موسم کا حال جانتے ہیں، دنیا کے نقشے دیکھتے ہیں یا سمت شناسی اور جی پی ایس سے متعلق دیگر کام کرتے ہیں۔

اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے کام جاری ہے لیکن فی الحال کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔
 

2. ریت
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر ریت بھی بھلا دنیا سے ختم ہو سکتی ہے۔ ہمارے پاس اتنے سارے صحرا اور ساحل سمندر تو ہیں جہاں ریت ہی ریت ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں ٹھوس اشیا میں جو چیز سب سے زیادہ نکالی جا رہی ہے وہ ریت اور بجری ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جس رفتار سے اسے نکالا جا رہا ہے اس تیزی سے یہ پیدا نہیں ہو رہی۔

پتھروں کے قدرتی کٹاؤ یا بردگی کے عمل سے ہزاروں برس میں بننے والی ریت روزانہ بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام، پانی کی تطہیر، سیم زدہ زمین کو پھر سے کام میں لانے، ہماری کھڑکیوں کے شیشے بنانے اور موبائل فونز کے پرزے بنانے میں استعمال ہو رہی ہے۔

ریت کے اس نقصان سے کمزور ماحولی نظاموں کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وسیلے کے استعمال کی عالمی سطح پر نگرانی کے لیے قواعد و ضوابط بنانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
 

3. ہیلیم
جشن کے موقع پر رنگین غباروں کا استعمال عام ہے اور پھر انھیں یوں ہی ہوا میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مگر یہ جان کر شاید آپ کا ضمیر ملامت کرے کہ ان میں بھری جانے والی ہیلیم گیس کے ذخائر بھی محدود ہیں۔

یہ گیس زمین کی گہرائی سے حاصل کی جاتی ہے اور شاید چند دہائیوں کا ذخیرہ ہی اب باقی بچا ہے۔

بعض اندازوں کے مطابق 30 سے 50 برس کے اندر ہی اس گیس کی کمیابی کے اثرات ظاہر ہونے لگیں گے۔

اس کی کمی سے جشن ہی پھیکے نہیں پڑیں گے بلکہ ہمارا علاج معالجہ بھی متاثر ہوگا کیونکہ یہ گیس ایم آر آئی یا بدن کی اندرونی تصویر کشی کرنے والی مشین کے مقناطیسوں کو ٹھنڈا کرنے کے بھی کام آتی ہے۔

اس نے سرطان، اور دماغ اور حرام مغز کی چوٹ کی تشخیص اور علاج میں انقلاب برپا کیا ہے۔
 

4. کیلے
تجارتی پیمانے پر پیدا کیے جانے والے کیلوں کی زیادہ تعداد پاناما نامی بیماری کے فنگس یا پھپھوندی سے متاثر ہے۔

ہم جو کیلے کھاتے ہیں اس کا تعلق کیلے کی اس قسم سے ہے جو کیونڈش کہلاتی ہے۔ پاناما نامی پھپھوندی کیلے کی اس نسل میں تیزی سے پھیل سکتی ہے۔

ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے۔ سنہ 1950 میں اس بیماری نے دنیا بھر میں کیلے کی پوری فصل تباہ کر دی تھی جس کے سبب کاشتکاروں نے گراس میچل نامی کیلے کی قسم چھوڑ کر کیونڈش قسم اگانا شروع کر دی تھی۔

محققین کیلوں کی ایسی اقسام تیار کرنے میں مصروف ہیں جو پھپھوندی کے مقابلے میں مدافعت رکھتی ہوں اور کھانے میں لذیذ بھی ہوں۔

5. قابلِ کاشت مٹی
اگرچہ قابل کاشت مٹی میں کمی کا فوری طور پر کوئی خدشہ نہیں ہے مگر ہماری بدانتظامی نے اس سلسلے میں تشویش کو جنم دیا ہے۔
 

ٹاپ سوئل یا مٹی کی بیرونی پرت وہ مقام ہے جہاں سے پودے اپنی خوراک کا سب سے زیادہ حصہ حاصل کرتے ہیں۔

جنگلی حیات کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری عالمی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف، کے اندازے کے مطابق پچھلے 150 برسوں میں زمین کی اوپری پرت کا آدھے سے زیادہ حصہ ختم ہو چکا ہے اور صرف ایک انچ دبیز پرت کی قدرتی طور پر بحالی میں 500 برس لگ سکتے ہیں۔

زمین بردگی یا کٹاؤ، شدید کاشتکاری، جنگلات کی کٹائی اور عالمی حدت میں اضافہ جیسے اسباب کے بارے میں خیال ہے کہ ان کی وجہ سے زمین کی قابل کاشت پرت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اسی پرت پر ہماری خوراک کی پیدوار کا انحصار ہے۔
 

6. فاسفورس
فاسفورس کا بظاہر ہماری روز مرہ زندگی میں کوئی خاص عمل دخل نہیں ہے۔

درحقیقت یہ نا صرف حیاتیاتی اعتبار سے انسانی ڈی این اے کی ساخت کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ مصنوعی کھاد کا بھی اہم جزو ہے جس کا کوئی معلوم متبادل نہیں ہے۔

پہلے یہ پودوں اور جانوروں کے فضلے کے ذریعے اسی مٹی میں لوٹ جاتا تھا جہاں سے حاصل کیا جاتا تھا۔ مگر اب یہ فصل کے اندر ہونے کی وجہ سے شہروں کو منتقل ہو رہا ہے جہاں سے یہ پانی میں دھل کر نکاسی کے نظام میں گم ہو رہا ہے۔

جس رفتار سے معاملات آگے بڑھ رہے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فاسفورس کے ذخائر 35 سے 40 برس تک ہی چل پائیں گے جس کے بعد ہمیں بھوک ستانے لگے گی۔
All Poetry

Friday, 30 August 2019