Monday, 30 September 2019
عمران خان سے ملاقات کرنے والے ارب پتی یہودی کون ہیں؟??
shaher yar
September 30, 2019
0
عمران خان سے ملاقات کرنے والے ارب پتی یہودی کون ہیں؟
|
Sunday, 29 September 2019
دنیا کی مقبول ترین کمپنیوں سے ہونے والی 5 دلچسپ غلطیاں٬
shaher yar
September 29, 2019
0
دنیا میں اس وقت لاتعداد مشہور اور کامیاب
کمپنیاں موجود ہیں- لیکن یہ بھی حقیقت ان کامیاب کمپنیوں میں بھی اکثر ملازمین یا پھر ان کے مالکوں سے غلطیاں ہوجاتی ہیں- لیکن یہ کمپنیاں اپنی ان غلطیوں سے ہی سیکھتی بھی ہیں- آج ہم آپ کو دنیا کی چند مقبول کمپنیوں سے ہونے والی بڑی بڑی غلطیوں کے بارے میں بتائیں گے-
1.بریک فری
سال 2010 میں سوئیڈن سے تعلق رکھنے والی کمپنی والوو نے پریزینٹیشن میں اپنی ایک ایسی کار پیش کی جس میں ایسا خودکار سسٹم موجود تھا کہ کار کسی چیز سے ٹکرانے سے پہلے ہی خود بخود بریک لگا دیتی تھی- اس موقع پر جب کار کے اس خودکار سسٹم کا مظاہرہ کرنے کے لیے کار کو چلایا گیا تو کار رکی ہی نہیں اور ٹرک میں جا ٹکرائی- دوسری بار سال 2015 میں اسی کمپنی نے اپنی ایک اور گاڑی پیش کی جس میں خودکار پارکنگ سسٹم نصب تھا- اس سسٹم کے تحت گاڑی خود بخود پارک ہوجانی تھی لیکن جب اس کا مظاہرہ کیا گیا تو کمپنی کو ایک بار پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ کار پارک ہونے کے بجائے سیدھا رپورٹر پر چڑھ دوڑی
2-مائیکرو سوفٹ ٹیبلٹ
سال 2012 مائیکرو سوفٹ کمپنی ایک تقریب کے دوران اپنا سرفیس ٹیبلٹ متعارف کروا رہی تھی- آغاز میں کمپنی کے مینیجر نے مہمانوں کو ٹیبلٹ کے فیچر کے متعلق آگاہ کیا لیکن جب مینیجر نے اس ٹیبلٹ کو آپریٹ کرنے کی کوشش کی تو وہ ہینگ ہوگیا- مینیجر کی بےانتہا کوششوں کے باوجود ٹیبلٹ نے کام نہیں کیا اور بالآخر انہیں دوسرے ٹیبلٹ کے ذریعے اپنی پریزینٹیشن مکمل کرنی پڑی-
3-فیس آئی ڈی
آئی فون ایکس کو کون نہیں جانتا ہے- ایپل کمپنی نے اپنے اس موبائل میں ایک نیا فیچر متعارف کروایا تھا جو کہ face id recognition تھا- جب ایپل کمپنی کے وائس پریزیڈنٹ اپنے نئے موبائل کے اس انوکھے فیچر کا مظاہرہ لوگوں کے سامنے کر رہے تھے تو اس وقت موبائل کے فیس آئی ڈی سسٹم نے کام ہی نہیں کیا اور آئی فون نے ان لاک کے لیے پاسورڈ طلب کر لیا- دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت وائس پریذڈنٹ یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ آئی فون ایکس پہلی بار میں ہی چہرہ شناخت کر لیتا ہے اور فون کھول دیتا ہے لیکن اس وقت آئی فون نے خود انہی کا چہرہ پہچاننے سے انکار کردیا- جس کے بعد انہوں نے دوسرے فون سے اس فیچر کا مظاہرہ کر کے دکھایا-
4-بلیو اسکرین
یہ تو سب ہی جانتے ہیں کمپیوٹر کے دنیا میں تہلکہ بل گیٹس نے اپنی ونڈوز کے ذریعے مچایا- لیکن آپ یہ شاید نہیں معلوم کہ جب بل گیٹس نے 1998 میں پہلی بار اپنی ونڈوز کی پریزینٹیشن دی تو اس وقت ونڈوز نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور پوری اسکرین بلیو ہوگئی تھی- اس پریزینٹیشن میں بل گیٹس کا بہت مذاق بنا تھا-
5-آئی فون
ایپل کمپنی کو پریزینٹشن میں کئی بار شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے- ایسا ہی ایک موقع آئی فون 4 متعارف کرواتے وقت بھی آیا- اس وقت ایپل کمپنی کے مالک اسٹیو جابز پبلک کے سامنے آئی فون 4 متعارف کروا رہے تھے- اس دوران انہوں نے آئی فون 4 میں نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ کھولنے کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی- متعدد کوششوں کے باوجود آئی فون 4 میں انٹرنیٹ نہیں چلا اور سائٹ اوپن نہیں ہوئی- درحقیقت اسٹیو جابز اس وقت سفاری براؤزر متعارف کروا رہے تھے- بعد میں انکشاف ہوا کہ خرابی موبائل میں نہیں تھی بلکہ جس عمارت
وہ 6 چیزیں جن سے ہم مستقبل میں محروم ہو جائیں گے....
shaher yar
September 29, 2019
0
وسائل میں کمی کا تکلیف دہ احساس ہمیں رفتہ رفتہ ہونے لگا ہے۔
تقریباً ہم سبھی نے یہ پڑھا ہو گا کہ پانی کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے یا تیل اور شہد کی مکھیاں کم ہو رہی ہیں لیکن ایسی اور بھی کئی چیزیں ہیں جن سے ہم محض بد انتظامی کی وجہ سے محروم ہو سکتے ہیں۔ |
![]() |
یہ وہ چیزیں ہیں جو روزمرہ زندگی میں ہم پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ہم نے یہاں ایسی چھ چیزوں کا ذکر کیا ہے۔ 1. زمین کے مدار میں گنجائش سنہ 2019 میں تقریباً 500,000 اجسام یا ٹکڑے زمین کے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔ ان میں سے صرف دو ہزار فعال ہیں یعنی وہ مصنوعی سیارے یا سیٹلائٹ جنھیں ہم روزمرہ کی زندگی میں مواصلات، جی پی ایس یا اپنے من پسند ٹی وی شو دیکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ باقی وہ ملبہ ہے جو راکٹ خلا میں داخل ہوتے وقت پیچھے چھوڑ جاتے ہیں یا جو مدار میں مخلتف چیزوں کے ٹکرانے سے پیدا ہوا ہے۔ |
![]() |
تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ یہ پانچ لاکھ اجسام وہ ہیں جو ہمارے مشاہدے میں ہیں جبکہ اس میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی مزید بہتر ہو رہی ہے ویسے ویسے چیزوں کو مدار میں بھیجنا آسان ہوتا جا رہا ہے۔ اسے انسانوں کے لیے اچھی خبر سمجھا جا سکتا ہے لیکن ہماری سڑکوں کے برعکس آسمان کی ٹریفک کو قابو میں رکھنے کے لیے کوئی نظام موجود نہیں۔ ہمارے پاس ایسا بھی کوئی نظام نہیں کہ زمین کے گرد چکر لگاتے ملبے یا باقیات کا صفایا کر سکیں۔ زمین کے مدار میں ان اجسام کے اضافے سے ان کے باہمی تصادم کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ نیٹ ورک خراب ہو سکتے ہیں جن کی مدد سے ہم اپنے موبائل فون استعمال کرتے ہیں، موسم کا حال جانتے ہیں، دنیا کے نقشے دیکھتے ہیں یا سمت شناسی اور جی پی ایس سے متعلق دیگر کام کرتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے کام جاری ہے لیکن فی الحال کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔ |
![]() |
2. ریت آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر ریت بھی بھلا دنیا سے ختم ہو سکتی ہے۔ ہمارے پاس اتنے سارے صحرا اور ساحل سمندر تو ہیں جہاں ریت ہی ریت ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں ٹھوس اشیا میں جو چیز سب سے زیادہ نکالی جا رہی ہے وہ ریت اور بجری ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جس رفتار سے اسے نکالا جا رہا ہے اس تیزی سے یہ پیدا نہیں ہو رہی۔ پتھروں کے قدرتی کٹاؤ یا بردگی کے عمل سے ہزاروں برس میں بننے والی ریت روزانہ بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام، پانی کی تطہیر، سیم زدہ زمین کو پھر سے کام میں لانے، ہماری کھڑکیوں کے شیشے بنانے اور موبائل فونز کے پرزے بنانے میں استعمال ہو رہی ہے۔ ریت کے اس نقصان سے کمزور ماحولی نظاموں کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وسیلے کے استعمال کی عالمی سطح پر نگرانی کے لیے قواعد و ضوابط بنانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ |
![]() |
3. ہیلیم جشن کے موقع پر رنگین غباروں کا استعمال عام ہے اور پھر انھیں یوں ہی ہوا میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مگر یہ جان کر شاید آپ کا ضمیر ملامت کرے کہ ان میں بھری جانے والی ہیلیم گیس کے ذخائر بھی محدود ہیں۔ یہ گیس زمین کی گہرائی سے حاصل کی جاتی ہے اور شاید چند دہائیوں کا ذخیرہ ہی اب باقی بچا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق 30 سے 50 برس کے اندر ہی اس گیس کی کمیابی کے اثرات ظاہر ہونے لگیں گے۔ اس کی کمی سے جشن ہی پھیکے نہیں پڑیں گے بلکہ ہمارا علاج معالجہ بھی متاثر ہوگا کیونکہ یہ گیس ایم آر آئی یا بدن کی اندرونی تصویر کشی کرنے والی مشین کے مقناطیسوں کو ٹھنڈا کرنے کے بھی کام آتی ہے۔ اس نے سرطان، اور دماغ اور حرام مغز کی چوٹ کی تشخیص اور علاج میں انقلاب برپا کیا ہے۔ |
![]() |
4. کیلے تجارتی پیمانے پر پیدا کیے جانے والے کیلوں کی زیادہ تعداد پاناما نامی بیماری کے فنگس یا پھپھوندی سے متاثر ہے۔ ہم جو کیلے کھاتے ہیں اس کا تعلق کیلے کی اس قسم سے ہے جو کیونڈش کہلاتی ہے۔ پاناما نامی پھپھوندی کیلے کی اس نسل میں تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے۔ سنہ 1950 میں اس بیماری نے دنیا بھر میں کیلے کی پوری فصل تباہ کر دی تھی جس کے سبب کاشتکاروں نے گراس میچل نامی کیلے کی قسم چھوڑ کر کیونڈش قسم اگانا شروع کر دی تھی۔ محققین کیلوں کی ایسی اقسام تیار کرنے میں مصروف ہیں جو پھپھوندی کے مقابلے میں مدافعت رکھتی ہوں اور کھانے میں لذیذ بھی ہوں۔ 5. قابلِ کاشت مٹی اگرچہ قابل کاشت مٹی میں کمی کا فوری طور پر کوئی خدشہ نہیں ہے مگر ہماری بدانتظامی نے اس سلسلے میں تشویش کو جنم دیا ہے۔ |
![]() |
ٹاپ سوئل یا مٹی کی بیرونی پرت وہ مقام ہے جہاں سے پودے اپنی خوراک کا سب سے زیادہ حصہ حاصل کرتے ہیں۔ جنگلی حیات کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری عالمی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف، کے اندازے کے مطابق پچھلے 150 برسوں میں زمین کی اوپری پرت کا آدھے سے زیادہ حصہ ختم ہو چکا ہے اور صرف ایک انچ دبیز پرت کی قدرتی طور پر بحالی میں 500 برس لگ سکتے ہیں۔ زمین بردگی یا کٹاؤ، شدید کاشتکاری، جنگلات کی کٹائی اور عالمی حدت میں اضافہ جیسے اسباب کے بارے میں خیال ہے کہ ان کی وجہ سے زمین کی قابل کاشت پرت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اسی پرت پر ہماری خوراک کی پیدوار کا انحصار ہے۔ |
![]() |
6. فاسفورس فاسفورس کا بظاہر ہماری روز مرہ زندگی میں کوئی خاص عمل دخل نہیں ہے۔ درحقیقت یہ نا صرف حیاتیاتی اعتبار سے انسانی ڈی این اے کی ساخت کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ مصنوعی کھاد کا بھی اہم جزو ہے جس کا کوئی معلوم متبادل نہیں ہے۔ پہلے یہ پودوں اور جانوروں کے فضلے کے ذریعے اسی مٹی میں لوٹ جاتا تھا جہاں سے حاصل کیا جاتا تھا۔ مگر اب یہ فصل کے اندر ہونے کی وجہ سے شہروں کو منتقل ہو رہا ہے جہاں سے یہ پانی میں دھل کر نکاسی کے نظام میں گم ہو رہا ہے۔ جس رفتار سے معاملات آگے بڑھ رہے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فاسفورس کے ذخائر 35 سے 40 برس تک ہی چل پائیں گے جس کے بعد ہمیں بھوک ستانے لگے گی۔ |














